ہفتہ، 23 مارچ، 2019

تحفہ

ابو آج کل کام پر نہیں جا رہے تھے ، پہلے جب ہم سکول جانے کے لئے تیار ہو رہے ہوتے تھے تو وہ بھی اٹھ کر شیو کر چکے ہوتے تھے اور جیسے ہی وہ ناشتے کے لئے باورچی خانے میں امی کے پاس آ کر چوکی پر بیٹھتے، میں چھوٹے بھائی کو اشارہ کرتا جو ان سے لپٹ کر چونی یا اٹھنی کے دو سکے نکلوا لینے میں عموماً کامیاب رہتا۔ لیکن ہفتہ بھر سے یہ معمول چل رہا تھا کہ جب ہم سکول جانے کی تیاری کر رہے ہوتے تو ابو ابھی تک سو رہے ہوتے تھے، ہمارے جانے کے بعد کسی وقت وہ اٹھ کر باہر نکل جاتے اور رات گئے اس وقت واپس آتے جب ہم سو چکے ہوتے۔ پہلے دن ہم نے ارادہ کیا کہ ابو کو جگا کر ان سے اپنی چونی یا اٹھنی لی جائے، لیکن امی نے ہماری گفتگو سن لی اور ڈانٹ کر منع کر دیا۔ ان کی یہ ڈانٹ ہمیں بہت بری لگی، سکول جاتے ہوئے ہم دونوں باتیں کرتے گئے کہ اٹھنی کا معاملہ ہمارے اور ابو کے بیچ ہے اور امی کو درمیان میں آنے کا کوئی حق نہیں تھا، اس لئے اب ہم ان سے نہیں بولیں گے۔
سکول واپسی پر ہم نے سچ مچ منہ لٹکائے ہوئے تھے اور امی جان کی کسی بات کا جواب نہیں دیا ۔ انہوں نے وجہ بھانپ لی اور مجھے گود میں بٹھا کر پیار سے سمجھایا کہ تمہارے ابو آج کل بیروزگار ہیں، اس وجہ سے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں، جب تک انہیں نیا کام نہیں ملتا، تب تک ان سے پیسے مت مانگنا ورنہ وہ پریشان ہوں گے۔ نہ صرف یہ، بلکہ انہوں نے کہا کہ تم بڑے ہو، بات کو سمجھ سکتے ہو، چھوٹے بھائی کو سمجھانا تمہارا کام ہے کہ وہ بھی پیسے مانگ کر ابو کو پریشان نہ کرے۔ سمجھدار اور بڑا کہے جانے پر میں بہت خوش ہو ا ، چھوٹے بھائی کو جا کر باقاعدہ حکم دے دیا کہ جب تک میں نہ کہوں، تب تک ابو سے کوئی پیسہ نہیں مانگنا۔ وہ اچھا خاصا جزبز ہو کر ’’لیکن کیوں، لیکن کیوں‘‘ کی گردان کرتا رہا، جب تک میں نے اس حتمی دلیل سے اسے خاموش نہ کروا دیا کہ تم ابھی چھوٹے ہو ، ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے۔لیکن سچی بات یہ ہے کہ کام اور پیسوں کے مابین تعلق میری سمجھ میں بھی نہیں آیا تھا، یہ مجھے معلوم تھا کہ ابو روزانہ کام پر جاتے ہیں اور یہ بھی معلوم تھا کہ ان کی جیب میں پیسے ہوتے ہیں اور پیسوں سے ہی گھر کا سودا سلف آتا ہے ، ہماری سکول کی فیس اور کاپیوں کتابوں کا خرچہ ادا ہوتا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ پیسوں اور کام کا آپس میں کیا تعلق ہے۔میرے نزدیک تو ابو کی جیب کسی جادوکی پوٹلی جیسی تھی جس سے پیسے خودبخود نکلتے آتے تھے ، یہ تصور ہی محال تھا کہ ان کی جیب سے کبھی پیسے ختم بھی ہو سکتے ہیں، لیکن امی کہتی ہیں تو ٹھیک ہی کہتی ہو ں گی کیونکہ امی ہمیشہ ٹھیک ہی کہتی ہیں۔
جمعہ کی چھٹی اس طرح پھیکی اور بے مزہ گزری کہ نہ ابو بازار گئے، نہ ہمارے لئے پھل اور کہانیوں کی کوئی کتاب آئی، نہ ہی گھر میں گوشت پکا۔ آلو کا پتلے شوربے والا سالن بنا کر امی نے سامنے رکھ دیا تو یوں لگا جیسے جمعہ کی بے عزتی کی جا رہی ہو، جمعہ تو خاص دن ہوتا ہے، اس دن سبزی کیسے پک سکتی ہے، لیکن سالن ڈالتے ہوئے میری ناپسندیدگی بھانپ کر امی کے چہرے پر اتنی سلوٹیں ابھر آئیں کہ کچھ کہنے کا حوصلہ نہ ہوا۔اس شام میں نے انہیں ابو سے کہتے سنا کہ آٹا صرف ایک وقت کی روٹیوں کا رہ گیا ہے، جس کے جواب میں ابو نے دھیمی آواز سے کچھ کہا، جو میں نہیں سن سکا۔
اگلے دن ہمیں ناشتے میں جو روٹی کھانے کو ملی، وہ اتنی پتلی تھی کہ میری ہو م ورک کی کاپی کا گتہ بھی اس سے زیادہ موٹا تھا، اس پر مزید ستم یہ کہ ایک روٹی کھانے کے بعد میں نے دوسری مانگی تو امی نے ڈانٹ دیا۔ اس روز بریک ٹائم میں مجھے بڑے زور کی بھوک لگی اورمیں نے ابو سے ملنے والی اٹھنی کو بے حد یا د کیا، وہ اٹھنی میرے پاس ہوتی تومیں آلو چنے یا شکر قندی کھا کر کم از کم چھٹی وقت تک کے لئے بھوک مٹا سکتا تھا، کاش میں نے کوئی اٹھنی بچا کر اپنے بستے میں رکھ لی ہوتی تو آج میرے کام آتی۔ اب تو جیسے تیسے چھٹی کے وقت تک انتظار کر نا تھا، چھٹی ہوئی تو میں جاگتی آنکھوں سے گرما گرم روٹی کے خواب دیکھتا، تقریباً بھاگتا ہوا گھر پہنچا اور امی سے کھانا مانگا، انہوں نے یہ کہہ کر میرے خواب چکنا چور کر دئیے کہ آج دوپہر کا کھانا نہیں ملے گا اور کھانے کے لئے مجھے شام تک کا انتظار کر ناہوگا۔ اس وقت جتنے زور کی بھوک مجھے لگ رہی تھی، اتنا ہی شدید غصہ آیا ، اتنا غصہ، اتنا غصہ کہ سمجھ نہیں آئی امی جان پر اپنا غصہ کیسے ظاہر کروں۔ ویسے تو مجھے غصہ آتا تھا تو میں رو کر، چیخ چلا کر اور زمین پر لیٹ کر اپنا غصہ ظاہر کر لیتا تھا ، لیکن یہ عام غصہ نہیں تھا، یہ خاص غصہ تھا، یہ بہت زور سے لگنے والی بھوک کا غصہ تھا اور اتنا شدید تھا کہ اسے ظاہر کرنا ممکن نہیں تھا، اسے ظاہر کرنے کی جتنی صورتیں ممکن تھیں، وہ سب گندے بچوں والی تھیں اور میں گندا بچہ نہیں تھا۔ سوچ سوچ کر بھی جب مجھے سمجھ نہ آئی کہ اپنا غصہ کیسے ظاہر کروں اور بھوک کے مارے میرے پیٹ میں جو ہلچل مچی ہوئی ہے، اس کا کیا کروں تو میں خاموشی سے چارپائی پر لیٹ کر شام ہونے کا انتظار کرنے لگا۔
شام کو امی نے کل دو روٹیاں پکائیں اور ہرے دھنیے کی چٹنی بنائی، آدھی آدھی ہم تین بہن بھائیوں کو کھانے کے لئے دی اور آدھی لپیٹ کر ابو کے لئے رکھ دی۔ دن بھر کی بھوک بھلا آدھی روٹی سے کیا مٹتی لیکن مجھے احساس ہونے لگ گیا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے ، کچھ ایسا ہے کہ مجھے مزید روٹی نہیں مانگنی چاہئے۔ تاہم چھوٹا بھائی بھوک کی شدت سے بے حال ہو رہا تھا، اس نے آدھی روٹی ختم کر لینے کے بعد مجھے کہنی ماری کہ امی سے مزید روٹی کا مطالبہ کروں، میں شش و پنج میں پڑا رہا لیکن اس نے دوبارہ کہنی ماری تو بڑے بھائی کے قائدانہ کردار کے تقاضے شش و پنج پر غالب آ گئے اور میں نے ہمت کرتے ہوئے امی سے مزید روٹی مانگ لی۔ امی نے نہایت پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا کہ کچھ ہی دیر میں تمہارے ابو پیسے لے کر آئیں گے ، ان پیسوں سے صبح تم دکان سے جا کر آٹا لانا اور پھر میرا لال جتنی روٹیاں کہے گا، اسے پکا کر دوں گی، یہ کہہ کر فوراً ہی انہوں نے منہ پھیر لیا جیسے کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی ہوں، لیکن میں یہ نہ سمجھ سکا کہ وہ کیا چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ میرے لئے ان کا وعدہ اور پیار سے سر پر ہاتھ پھیرنا ہر قسم کی کلفت مٹا دینے کے لئے کافی تھا، یہی وعدہ میں نے ہو بہو چھوٹے بھائی تک پہنچا دیا جس کے لئے میرے الفاظ حتمی ضمانت جیسی اہمیت رکھتے تھے اور وہ ان پر یقین کرتے ہوئے خوشی خوشی سونے کے لئے لیٹ گیا تا کہ جلد از جلد صبح آ سکے۔ میں اس رات ابو کے آنے تک جاگتا رہا، مجھے امید تھی کہ شاید وہ کچھ کھانے کے لئے لے آئیں تو مجھے صبح تک انتظار نہ کرنا پڑے، لیکن رات گئے جب وہ خالی ہاتھوں، پژمردہ چال کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے تو اس امید پر بھی پانی پھر گیا۔ میں نے انہیں امی سے کہتے سنا کہ آج کہیں سے ادھار بھی نہیں مل سکا اور صبح فاقے کے سوا کوئی چارہ نہیں، لیکن انہیں بہرحال ایک کارخانے میں مزدور کی ضرورت کا پتا چلا ہے اور صبح وہ وہاں جا رہے ہیں، امید ہے کہ صبح دیہاڑی ضرور لگ جائے گی۔ مجھے یہ سمجھ نہ آ سکی کہ فاقہ کیا ہوتا ہے، اسی سوال پر غور کرتے کرتے میری آنکھ لگ گئی۔
اگلی صبح میں وقت سے پہلے بیدار ہو گیا، میرے پیٹ کے اندر کوئی آواز مسلسل چیخ رہی تھی ’’ روٹی، روٹی، روٹی‘‘ اور اسی آواز نے مجھے وقت سے پہلے جگا دیا تھا۔ اتنی جلدی اٹھنے کے باوجود ابو خلاف معمول ہمارے اٹھنے سے بھی پہلے کہیں جا چکے تھے اورامی جان صحن میں خاموش بیٹھی تھیں۔ان کی خاموشی سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ جو گڑبڑ بھی ہے، ابھی ختم نہیں ہوئی،لیکن پھر بھی ڈرتے ڈرتے پوچھاکہ وہ پیسے کہاں ہیں جن سے جا کر آٹا لانا ہے۔ انہوں نے جیسے میری بات سنی ہی نہیں اور اسی طرح خاموش بیٹھی رہیں۔ میرے اندر کل کا دبا ہوا غصہ پھر سے ابھرنے لگا۔ امی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ صبح مجھے پیسے دے کر آٹا منگوائیں گی اور میں جتنی روٹیاں کہوں گا، پکا کر دیں گی لیکن اب وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کر رہیں، حالانکہ مجھے اتنی بھوک لگی ہوئی ہے۔ یہ تو کھلی دھوکے بازی ہوئی، وہ ہمیشہ وعدہ پورا کرتی ہیں تو پھر آج ایسا کیوں کر رہی ہیں، حالانکہ آج مجھے ان کے وعدہ پورا کرنے کی جتنی اشد ضرورت ہے، پہلے کبھی نہ رہی ہو گی۔ میں نے اپنا سوال دہرایا کہ وہ پیسے کہاں ہیں جن سے آٹا لانا ہے، لیکن امی بدستور اسی طرح خاموش اور گم صم بیٹھی رہیں۔ میرے لئے اپنے غصے پر قابو رکھنا ممکن نہ رہا ، ایک تو ایسا دھوکہ، دوسرے میرے ساتھ بول بھی نہیں رہیں۔ میں نے چیخنا شروع کر دیا۔’’ مجھے بھوک لگی ہے، مجھے روٹی چاہئے۔ جہاں سے مرضی لا کر دیں، مجھے نہیں معلوم، مجھے بس روٹی چاہئے۔ آپ نے کہا تھا کہ صبح جتنی روٹیاں کہوں گا ، پکا کردیں گی۔ آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا ۔‘‘ جو کچھ میرے منہ میں آیا، میں کہتا چلا گیا۔ امی اسی طرح خاموش بیٹھی سنتی رہیں، نہ ان کے ماتھے پر کوئی تیوری ابھری، نہ انہوں نے مجھے ڈانٹا، بس خاموش بیٹھی میری چیخؒ و پکار سنتی رہیں، چھوٹا بھائی اور اس سے چھوٹی بہن میرے پاس سہمے سہمے کھڑے سب کچھ دیکھتے رہے، پھر ایک دم سے امی نے بلک بلک کر رونا شرو ع کر دیا۔ اسی طرح جیسے ہم خود روتے تھے۔ یہ اتنا اچانک، اتنا غیر متوقع اور سٹپٹا دینے والا واقعہ تھا کہ میں حیران پریشان کھڑا رہ گیا، ہم نے آج تک امی کو روتے نہیں دیکھا تھا، بلکہ ہمارے وہم و گمان تک میں نہیں تھا کہ وہ بھی رو سکتی ہیں۔ میں نے ہمیشہ خود کو یا اپنے بہن بھائیوں کو روتے اور امی کو ہمیں پچکارتے، دلاسہ دیتے اور چپ کرواتے ہی دیکھا تھا، ان کی ذات ایک جادوئی اسفنج جیسی تھی جو ہمارے تمام آنسو جذب کر لیتا تھا، پونچھ ڈالتا تھا، اس اسفنج سے آنسوؤں کو بہہ نکلتے دیکھنا ناممکن سے بھی زیادہ ناممکن کسی چیز کو ممکن ہوتے دیکھنے جیسا تھا۔ میرے اندر بھرا ہوا سارا غصہ یکدم سے ٹھنڈا ہو گیا اور اس کی جگہ شرمندگی نے لے لی، یہ تو سامنے کی بات تھی کہ وہ میرے چیخنے چلانے کے سبب رو رہی تھیں، جیسے وہ غصے میں چلاتی تھیں تو ہمارے آنسو نکل آتے تھے ، اسی طرح میرے چیخنے چلانے کے سبب وہ رو پڑی تھیں۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے، وہ امی ہیں، اتنی بڑی ہیں، وہ کیسے رو سکتی ہیں۔ میں شرمندگی اور ندامت کے عالم میں اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتا رہا ، اسی کوشش میں مجھے یا دآیا کہ کل صبح انہوں نے کاپی کے گتے سے بھی پتلی ایک روٹی ہمارے ساتھ ہی کھائی تھی اور پھر شام کو جو دو روٹیاں پکائی تھیں، ان میں سے آدھی آدھی ہم تینوں کو دی تھی اور باقی آدھی ابو کے لئے رکھ دی تھی۔ تو کیا انہوں نے کل رات آدھی روٹی بھی نہیں کھائی تھی؟ کیا انہوں نے کل صبح کے بعد سے کچھ نہیں کھایا تھا؟ یہ خیال آنے پر میری شرمندگی اور بھی بڑھ گئی، اتنی زیادہ ،ا تنی زیادہ کہ میرے لئے اس کو برداشت کرنا ممکن نہ رہا۔ میرا جی چاہا کہ امی کی گود میں سر رکھ کر زور زو ر سے رونے لگوں اور ان سے معافی مانگوں، لیکن ان کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہتے آ رہے تھے اور ان آنسوؤں میں کچھ ایسا تھا، کچھ خوفزدہ کر دینے والا، دل دہلا دینے والا کہ مجھے ان کے پاس جانے کا حوصلہ نہیں ہو رہا تھا۔ میں بھاگ کر اندر کمرے میں چلا گیا اور تکیے میں منہ دے کر زار و قطار رونے لگا۔ رو رو کر جب آنسو بالکل ختم ہو گئے تو میں نے دل میں پکا عہد کیا کہ اب امی سے روٹی نہیں مانگوں گا، وہ خود ہی جب پکا کر دیں گی ، جتنی پکا کر دیں گی، خاموشی سے کھا لوں گا اور ہرگز ، ہر گز ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گا جس سے ان کا دل دکھے اور وہ رونے لگ جائیں۔ باہر آیا تو امی بھی رو رو کر چپ ہو چکی تھیں اور چھوٹا بھائی اور بہن ان کے گھٹنوں سے لگے خاموش بیٹھے تھے، امی نے انہیں اپنے بازوؤں میں سمیٹا ہوا تھا، میں بھی آ کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور امی نے اپنا بازو پھیلا کر مجھے بھی اپنے بازو میں سمیٹ لیا۔
اس دن ہم سکول نہیں گئے، ’’ روٹی، روٹی‘‘ چیختی ہوئی آواز خود ہی چیخ چیخ کر خاموش ہو گئی تو ہم نے آپس میں کھیلنا شروع کر دیا۔ امی اٹھ کر کام کاج میں مصروف ہو گئیں، کام کاج تھا ہی کیا، چولہا ٹھنڈا پڑا تھا اور برتن رات سے دھلے پڑے تھے، وہ جھاڑو لے کر کونوں کھدروں کی صفائی کرتی اور چیزیں اٹھا کر یہاں وہاں رکھتی رہیں۔ میں کھیلتے کھیلتے دیوار پر چڑھا اور وہاں سے گھر کی چھت پر چڑھ گیا۔ چھت پر روٹی کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا تھا ، چوتھائی کے لگ بھگ روٹی کا ایک خشک ٹکڑا جو خدا جانے کب سے چھت پر پڑا تھا اور کس نے ڈالا تھا، ہو سکتا ہے اچھے دنوں میں امی نے ہی پھینکا ہو جو روٹی کے بچے کھچے ٹکڑے چھت پر اچھال دیا کرتی تھیں کہ پرندے کھا لیں ۔ روٹی کا یہ ٹکڑا مجھے آسمان سے اتری کسی غیبی نعمت کی مانند محسوس ہوا، میں نے بے صبری سے اٹھا کر اس پر دانت مارے تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی پتھر کو چبانے کی کوشش کر رہا ہوں، دھوپ میں پڑا پڑا یہ ٹکڑا پتھر ہی کی مانند سخت ہو چکا تھا۔ کچھ کوشش سے میں ایک چھوٹا سا، اپنی چھنگلیا کی پور برابر ایک ٹکڑا دانتوں سے توڑنے میں کامیاب ہو گیا، کچھ دیر اسے زبان سے منہ کے اندر الٹ پلٹ کر لعاب دہن سے نرم ہونے دیا پھر چبایا اور حلق میں اتارنے کی کوشش کی، لیکن اتنا بدمزہ تھا کہ باوجود بھوک کے حلق سے نیچے اترنے کا نا م نہ لیتا تھا، میں نے زبردستی اسے حلق سے اتارنے کی کوشش کی تو ابکائی آ گئی۔ کچھ دیر اس روٹی کے ٹکڑے کو ہاتھ میں پکڑے کھڑا سوچتا رہا کہ اسے کس طرح نگلا جائے، پھر ایک ترکیب ذہن میں آئی۔ میں نے روٹی کا ٹکڑا وہیں چھت پر رکھا، احتیاطاً ایک اینٹ اس کے اوپر رکھ دی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ پرندے جن کا دھیان اتنے دنوں سے اس پر نہیں پڑا ، آج ہی ان میں سے کسی کا دھیان پڑ جائے اور وہ اسے لے اڑے۔نیچے اتر کرسکول کی کاپی میں سے ایک ورق پھاڑا، باورچی خانے میں جا کر ایک چمچ نمک اس پر ڈالا، سرخ مرچ کے خالی ڈبے کو اچھی طرح نمک کی ڈھیری پر جھاڑا کہ زیادہ سے زیادہ سرخ مرچ اس میں ملائی جا سکے، اس آمیزے کو چمچ سے ہلا کر اچھی طرح مکس کیا اور ایک پڑیا بنا کر باورچی خانے سے نکل آیا۔ باہر صحن میں چھوٹا بھائی اور بہن کھیلنے میں مصروف تھے، چھوٹے بھائی نے میری طرف دیکھا تو میں نے جھٹ پڑیا اپنی قمیص کی جیب میں ڈال لی مبادا وہ دیکھ لے اور سوال پوچھنے لگے کہ یہ کس لئے ہے۔ پڑیا کو جیب میں لئے پھر سے چھت پر چڑھا، اینٹ کے
نیچے دبا روٹی کا ٹکڑا نکالا ، اس سے پھر ایک چھنگلیا کی پور برابر لقمہ توڑا ، چٹکی سے اس پر اچھی طرح نمک مرچ کا آمیزہ چھڑکا اور منہ میں ڈال لیا۔ نمک مرچ کا تیز اور ترش ذائقہ اس کی بدمزگی پر غالب آگیا تو حلق نے بھی اسے قبول کر لیا اور میں بالآخر پہلا لقمہ نگلنے میں کامیاب ہو گیا، اس وقت خشک روٹی کا یہ ٹکڑا مجھے اتنا لذیذ، اتنا خوش ذائقہ معلوم ہوا کہ دنیا کی ساری نعمتیں اس کے آگے ہیچ معلوم ہوئیں۔ دوسرا لقمہ توڑتے وقت مجھے امی کا خیال آیا جنہوں نے کل صبح سے کچھ نہ کھایا ہو گا، چھوٹے بھائی اور بہن کا خیال آیا اور ان تمام کھانے پینے کی چیزوں کا خیال آیا جو ہم مل بانٹ کر کھاتے رہے تھے، جی چاہا کہ روٹی کا یہ ٹکڑا لے کر نیچے اتروں اور اس میں سے سب کو برابر برابر حصہ دوں، لیکن اگلے ہی لمحے خودغرضی اس پر غالب آ گئی۔ اگر وہ بھوکے ہیں تو مجھے کیا، ابو آئیں گے تو انہیں کھانے کو لا دیں گے، یہ روٹی کا ٹکڑا صرف اور صرف میرا ہے، اس پر کسی کا کوئی حق نہیں، کسی کا کوئی حق نہیں ہو سکتا۔ میں نے مزے لے لے کر روٹی کا وہ ٹکڑا نمک مرچ کے ساتھ کھایا اور معصو م سی شکل بنا کر نیچے اتر آیا۔ اندر ہی اندر میں ڈرتا رہا کہ امی یا بہن بھائی میں سے کوئی میرا چہرہ دیکھ کر نہ جان لے کہ میں کچھ کھا کر آیا ہوں، اچھی طرح اپنا منہ صاف کیا اور قمیص کو بھی ہاتھوں سے جھاڑا کہ کہیں روٹی کا کوئی ذرہ اٹکا نہ رہ گیا ہو جو میرا پول کھول دے۔ پھر بھی تسلی نہ ہوئی تو میں گھر سے باہر نکل آیا اور گلیوں میں بے مقصد پھرنے لگا۔ اس دن دکانوں کے شوکیسوں میں سجے بسکٹ، خطائیاں ، باقرخانیاں اور کریم رول معمول سے کچھ زیادہ میری توجہ کھینچ رہے تھے، شو کیس کے پار بوریوں میں آٹا، چاول اور دالیں وغیرہ بھی دھری ہوں گی جنہیں دیکھنے کو میر ا بے حد جی للچا رہا تھا، لیکن انہیں دیکھنے کے لئے شو کیس کے اوپر سے اندر دکان میں جھانکنا پڑتا اور کچھ خریدے بغیر ایسی تاکا جھانکی کی کوشش کا نتیجہ دکاندار کی بھرپور ڈانٹ کی صورت میں نکلتا۔ اس بے مقصد آوارہ گردی کے دوران، دکانوں کے شوکیسوں میں پڑی کھانے پینے کی چیزوں کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ دکانوں کے اشیائے خورد و نوش سے بھرے ہونے کے باوجود میں بھوکا کیوں ہوں؟ اتنی دکانیں ہیں، ہر دکان میں کھانے پینے کی اتنی چیزیں پڑی ہیں جو ختم ہی نہیں ہوتیں، ایک دن ختم ہو بھی جائیں تو اگلے ہی دن اور آ جاتی ہیں، آخر مجھے ان ڈھیر ساری چیزوں میں سے کچھ کھانے کو کیوں نہیں مل سکتا؟ ٹھیک ہے کہ چیزیں پیسوں سے ملتی ہیں، پیسے ابو کے پاس سے آتے ہیں اور ابو کے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب کیونکر ہوا کہ مجھے بھوکا رہنا ہو گا۔ اور آخر میں بھوکا کیوں رہوں؟ دوسرے لوگ آ رہے ہیں، دکانوں سے کھانے کی چیزیں خرید خرید کر لے جا رہے ہیں جنہیں وہ گھر لے جا کر کھائیں گے تو میں کیوں بھوکا رہوں؟ میں کیوں کھانے کی چیزیں گھر نہیں لے جا سکتا جو میں خود بھی کھاؤں اور امی کو بھی دوں، بہن بھائیوں کو بھی دوں۔ سوچ سوچ کر میرا سر دکھنے لگا لیکن یہ معمہ نہ حل ہو سکا۔
پتا نہیں کتنی دیر اسی طرح بے مقصد پھر کر گھر پہنچا تو امی کو اسی طرح خاموش بیٹھے پایا ، چھوٹا بھائی اور بہن دونوں دیوار کے ساتھ لگے سہمے بیٹھے تھے۔ چھوٹے بھائی نے بتایا کہ بہن نے امی سے کہا تھا کہ بھوک لگی ہے، امی نے پھر رونا شرو ع کر دیا اور کتنی دیر رونے کے بعد ابھی خاموش ہوئی ہیں۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کہ کیا کہوں، ان کے ساتھ جڑ کر اسی طرح بیٹھ گیا ۔ ہم سب کی نظریں دروازے پر جمی ہوئی تھیں کہ کب ابو آئیں گے اور ہمیں کچھ کھانے کو ملے گا۔ ہماری واحد امید بہرحال وہی تھے اور ان کے انتظار کے سوا ہمارے پاس کرنے کو کچھ نہ تھا۔
دوپہر ہوئی، ڈھل کر سہ پہر میں بدلی اور پھر شام بن گئی،غروب آفتاب سے کچھ پہلے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے لپک کر دروازہ کھولا، سامنے ہمارے پختون ہمسائے کا لڑکا ہاتھ میں ایک بڑا سا پیالہ لئے کھڑا تھا۔ انہیں ہمارے پڑوس میں آئے بمشکل ایک ماہ ہی ہوا ہو گا ، بڑے لڑکے کی اردو بہت کمزور تھی، یہی وجہ تھی کہ وہ پشتو نہایت دبنگ لہجے میں بولنے کے باوجود اردو بولتے ہوئے نہایت جھینپو اور شرمیلا معلوم ہوتا تھا۔ ’’ بھائی ، برتن لاؤ۔‘‘ اس نے اپنے جھینپے انداز میں اٹک اٹک کر کہا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ کچھ کھانے کو لایا ہے۔ ’’امی، برتن لائیں۔‘‘ میں نے خوشی سے چلا کر کہا۔ سارے گھر میں زندگی کی لہر دوڑ گئی، امی جلدی سے باورچی خانے سے ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، چھوٹا بھائی اور بہن اشتیاق سے لپک کر دیکھنے کو آئے کہ کیا کھانے کو آیا ہے۔ اس نے اپنا پیالہ ہمارے پیالے میں اوندھا کر دیا، سرخ لوبیے اور ابلی ہوئی گندم پر مشتمل ایک سوپ نما شے سے پیالہ لبا لب بھر گیا۔ ’’ اس چیز کا کیا نا م ہے؟‘‘ امی نے دریافت کیا۔ یہاں اس کی اردو تمام ہو گئی اوراس نے پشتو میں کہا۔ ’’دا شوپڑ دے۔‘‘ یعنی یہ شوپڑ ہے۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی اس نے یہ نام لیا یا ہمیں ایسا سنائی دیا، بہر حال اس سوپ نما شے کا ہمارے گھر میں جب بھی تذکرہ ہوتا ہے، ’’شوپڑ‘‘ کے نام سے ہی ہوتا ہے۔ اس شام ہمسایوں کا یہ تحفہ ہمارے لئے ہیرے جواہرات کے تحفے سے بڑ ھ کر تھا، کسی ہمسائے نے اپنے ہمسائے کو ایسا گرانقدر تحفہ کم ہی دیا ہو گا جیسا ہمیں ملا۔ بھلے ہی اس کی مقدار چند چمچ فی کس رہی ہو ، ہم چاروں نے یہ سوپ مزے لے لے کر نوش کیا اور گویا سب کے مردہ تن نئی زندگی سے ہمکنار ہو ئے۔ اسی رات ابو بھی پیسے لے آئے اور یوں یہ کٹھن وقت اپنے اختتام کو پہنچا جسے میں زندگی بھر نہ بھلا سکوں گا،  لیکن اس وقت کی کٹھنائیوں سے کہیں زیادہ  مجھے اپنے ہمسایوں کا یہ تحفہ یاد رہے گا  اور یہ کہ   کچھ اچھا پکائیں تو  اپنے ہمسایوں اور  اعزا و اقارب  کے لئے اس میں سے کچھ نکالنے کی روایت کتنی خوبصورت ہے اور  کتنی اہم  ۔۔۔ 

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بھلا ساری تحریر پڑھ لی تو کمنٹ کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ عامریت ہی تو ہے، آمریت تو نہیں