جمعہ، 25 جنوری، 2019

بیڑیوں کی چھن چھن

ایک معمر شناسا سے یہ واقعہ سننے کا اتفاق ہوا. کہتے ہیں: اس وقت کی بات ہے جب پنجابی سنیما اپنے عروج پر تھا اور فلم بین سلطان راہی کے دیوانے تھے- حقیقی زندگی میں آئے دن عوام کی عزت نفس مجروح کرنے والے تھانے کچہری کے اہلکاروں کو پردہ سکرین پر ہیرو کی گرجدار آواز اور دبنگ رویے سے خائف یا تلملائے ہوئے دیکھنا عوام کو نہایت مرغوب تھا اور فلموں میں ایسے مناظر بکثرت ہوتے تھے- جج یا تھانیدار کے سامنے ہیرو کے بلند بانگ ڈائیلاگ عرصہ دراز تک زبان زد عام رہتے تھے-دودھ دہی کی دکان کرنے والا ایک گجر لڑکا جس کی دکان پر میں لسی پینے جاتا تھا، ان فلموں کا بہت شوقین تھا، سنیما پر نئی آنے والی کوئی فلم تو خیر اس نے کبھی چھوڑی ہی نہیں، اس کے علاوہ بھی وی سی آر کرائے پر لا کر پنجابی فلمیں دیکھنا اس کا دلپسند مشغلہ تھا۔
ایک مرتبہ مجھ سے کہنے لگا- "بھاء، دل کر دا اے کدی میں وی اینج کچہری وچ پیش ہوواں کہ ہتھکڑیاں تے بیڑیاں لگیاں ہون، اگے پچھے پلس ای پلس ہووے۔ میں سینہ چوڑا کر کے ٹراں تے بیڑیاں چھن چھن کرن۔ لوکی کہن پرے ہو جاو فلانا گجر آ ریا اے۔"
 میں نے اس کی بات سن کر ڈانٹا کہ کچھ عقل کرو، ان فلموں نے تمہارا دماغ خراب کر دیا ہے- لوگ تھانے کچہری سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور تم الٹا اس کی خواہش کر رہے ہو۔
 لیکن جو رنگ اس جوان نے پکڑ لیا تھا، وہ ظاہر ہو کر رہا- کچھ ہی عرصے بعد دکان پر اس کی کسی سے لڑائی ہوئی، اس نے لکڑی کی وہ مدہانی جس سے لسی بناتا تھا، لڑنے والے کے سر میں دے ماری- بدقسمتی سے وار مہلک ثابت ہوا، مضروب سر کی چوٹ سے جانبر نہ ہو سکا اور یہ دفعہ تین سو دو کے کیس میں جیل جا پہنچا۔
 وقوعہ کے کوئی چھ ماہ بعد کی بات ہو گی، ایک پیشی پر میں اس کے والد اور چچا کے ساتھ کچہری چلا گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مدقوق سا نوجوان، ہتھکڑیوں میں جکڑا، پژمردہ چال چلتا آ رہا ہے، چہرے کی رونق اور شادابی رخصت ہو چکی ہے۔
 بیساختہ میرے منہ سے نکلا "پتر چھن چھن دی آواز نئیں آ رئی۔"
اس نے شرم سے سر جھکا لیا، کہنے لگا "چاچا جی تسی ٹھیک کہندے سو، فلماں نے میرا دماغ خراب کر دتا سی۔"

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بھلا ساری تحریر پڑھ لی تو کمنٹ کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ عامریت ہی تو ہے، آمریت تو نہیں