بدھ، 5 دسمبر، 2018

سرمد کاشانی کی چند رباعیات بمعہ اردو ترجمہ

اورنگزیب کے ہاتھوں سرمد کے قتل کا واقعہ جس طرح بیان کیا جاتا ہے، اس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ وحدت ادیان کے قائل اور صوفیاء کے اس نوفلاطونی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے جو نیک و بد کے روایتی مذہبی تصور کو درخور اعتناء نہیں سمجھتا۔ لیکن امشب رباعیات سرمد کی ورق گردانی سے یہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ اپنی رباعیات میں سرمد ٹھیٹھ اسلامی روایت کے پیرو ایک صوفی ملتے ہیں جو زاہد پر اس کی ریاکاری اور منافقت کے سبب تنقید ضرور کرتے ہیں، لیکن ان کی یہ تنقید کہیں بھی دینی روایات و شعائر کے تمسخر میں نہیں ڈھلتی۔
ایک روایتی مسلمان کی مانند اپنے گناہوں پر ندامت، خدا کی رحمت سے بخشش کی امید اور نعتیہ رباعیوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری عقیدت ان کے کلام میں جابجا ملتی ہے۔ مندرجہ ذیل رباعیات کے تسلسل میں خدا کے حضور جھکے، اپنے گناہوں پر نادم ایک فرد کی مناجات کا جیسا خوبصورت اور دل کو چھو لینے والا تاثر ملتا ہے، اس نے ایک بار پھر یاددہانی کروائی کہ کسی شخص کے افکار سے براہ راست آگاہی حاصل کئے بغیر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا کتنا گمراہ کن عمل ہو سکتا ہے۔
از نیک و بد خویش نگشتم آگاہ
بر فضل تو کردم گناہ و نامہ سیاہ
از قدرت تست ضعف و قوت ہمہ را
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

غیر از در رحمتش نداریم پناہ
بے چارہ و عاجزیم در حال تباہ
نے طاقت زہدَست نہ یارائے گناہ
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

شوخی زکفم ربود دل را بہ نگاہ
شد روز بمن تیرہ ازیں چشم سیاہ
پیری و شباب جمع شد آخر کار
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

احوال کہ از جور فلک گشت تباہ
ایں بود کہ از شاہ و گدا خواست پناہ
دیدم ہمہ را و آزمودم ہمہ را
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

افسوس بہ تقدیر نہ بردیم پناہ
ز اندیشہ و تدبیرشد حال تباہ
مغرور مشو بقوت و قدرت خویش
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

احوال شد از زشتی ء اعمال تباہ
جزفضل خدا نیست دیگر جائے پناہ
ہر چند کہ من ضعیف و ابلیس قوی است
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

گرمتقیم و گر اسیرم بہ گناہ
آنی کہ بہرحال در آری بہ پناہ
نیک و بدِ ہر کس در یدِ قدرت تُست
لا حول ولا قوۃ الا باللہ
-----------------------
منظوم ترجمہ:
نیکی و بدی سے نہ ہوا میں آگاہ
رحمت کے بھروسے پہ کیا نامہ سیاہ
طاقت ہو کہ ضعف تیری قدرت ہی سے ہے
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

رحمت کے سوا اور نہیں کوئی پناہ
عاجز ہوں میرا حال نہایت ہے تباہ
ہے زہد کی طاقت نہ یارائے گناہ
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

دل لے گئی اک شوخ کی دزدیدہ نگاہ
دل کو بھی سیاہ کر گئی وہ چشم سیاہ
یک جا ہوئے پیری و شباب آخر کار
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

ہے جور فلک سے یوں میرا حال تباہ
میں ہر کس و ناکس سے ہوں جویائے پناہ
دیکھا بھی ہے سب کو، آزمایا سب کو
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

افسوس کہ تقدیر نے بخشی نہ پناہ
تدبیر سے حال ہو گیا اور تباہ
مغرور نہ ہو اس پر کہ طاقتور ہوں
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

ہے زشتی ء اعمال سے ہی حال تباہ
جز فضل خدا نہیں اور کوئی پناہ
ہر چند میں کمزور ہوں، شیطان قوی
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

زاہد ہوں میں یا رہتا ہوں پابند گناہ
تو وہ ہے کہ ہر حال میں دیتا ہے پناہ
ہر ایک کا نیک و بد تیرے ہاتھ میں ہے
لا حول ولا قوۃ الا باللہ

- پنڈت بالمکند عرش ملیسانی
(ترجمہ بعض مقامات پر اصل کا مفہوم ٹھیک سے ادا نہیں کرتا، لیکن اسی پر گزارا کیجئے)

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بھلا ساری تحریر پڑھ لی تو کمنٹ کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ عامریت ہی تو ہے، آمریت تو نہیں