بدھ، 28 نومبر، 2018

کچھ شخصی تعلقات بارے

شخصی تعلقات کا قیام، استحکام اور دوام انسان کی فطری خواہشات میں سے ایک ہے۔جو دل میں سمائیں، ان کا نظر کے سامنے، حواس کی رسائی اور دل سے رابطے میں رہنا سانسوں کے تسلسل کی مانند ضروری او ر ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔ سماجی کثافتوں اور شخصی اختلافات کی گھٹن، فاصلوں کی تیغ اور حوادث زمانہ کے ناوک اس خواہش کو بار بار فنا کے گھاٹ اتارتے ہیں لیکن یہ خواہش مر مر کر زندہ ہوتی ہے، ڈوب ڈوب کر ابھرتی ہے۔ اپنی ہی آگ میں بھسم ہو کر دوبارہ جنم لینے والے اساطیری پرندے کی مانند شکست، جدائی اور نا امیدی کی راکھ سے نئے افراد، نئے خوابوں اور نئی امیدوں کا جسد لئے پھر اڑان بھرتی ہے، ممکنات کے افق پر پھر سے کوئی آشیانہ ڈھونڈنے لگتی ہے۔
تہذیب کے سفر میں کسی مرحلے پر، شاید بالکل ابتدا میں ہی، انسانی فکر نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شخصی تعلقات جیسے اہم اور نازک امر کو محسوسات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ جذبات کی پل پل رنگ بدلتی دنیا اورمحسوسات کی ہر دم سمت بدلتی لہریں کسی تعلق کو پائیدار بنیادیں اور وہ استحکام فراہم نہیں کر سکتیں جس کی ہمیں خواہش ہے۔ یہ امر بظاہر نہایت عجیب اور ناقابل یقین ہے، بادی النظر میں شخصی تعلقات کی بنیاد محسوسات کے سوا کچھ ہے ہی نہیں، ایک جگری دوست اور جانی دشمن کے بارے میں سوچوں اور رویوں کا فرق سوائے محسوسات کے کس بنیاد پر استوار ہے؟ لیکن منجملہ دیگر تلخ حقائق کے، جن سے ہماری فطرت ہمہ وقت برسر پیکار نظر آتی ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ محسوسات کو دوام نہیں۔ انسان بدلتا ہے، مراحل عمر کی سیڑھیاں چڑھنا اور واقعات و حوادث کی مسلسل نمود کسی کیفیت، کسی احساس کو مستقل نہیں رہنے دیتے۔ ہم کسی احساس، کسی کیفیت، کسی خواہش کو کتنی ہی مضبوطی سے کیوں نہ تھامیں، وقت کی لہروں پر ڈوبتے ابھرتے کہیں نہ کہیں ہماری گرفت ہار جاتی ہے، اسے تھامے رکھنے سے انکار کر دیتی ہے اور ہم کسی ڈوبتی کشتی کے مسافر کی مانند اپنی متاع عزیز کو دور جاتے دیکھنے اور بے بسی سے ہاتھ پاؤں مارتے رہنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ اس حقیقت کے پیش نظر یہ تعجب کی بات نہیں کہ قرابت داری کے اصول و ضوابط کی تشکیل میں ابتدائی تہذیب کے شہ دماغوں نے ان میں جذبات کو، احساسات کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دی۔ خواہ یہ امر کتنی ہی سنگدلی پر مبنیٰ کیوں نہ دکھائی دے، جیسا کہ کسی مصنف نے لکھا تھا ، قرابت داری اور خاندان کے باب میں مشرق کے رویے کو دیکھئے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مشرق کے روایت سازوں نے نہ صرف محبت کے اظہار اور دوام کی کاوشوں کو قابل اعتنا نہیں سمجھا بلکہ وہ شاید جذبات کو تعلقات کے باب میں ایک منفی قوت خیال کرتے تھے۔ تاہم اس رویے کو مشرق سے منسوب کرنا بجائے خود ایک حالیہ تصور ہے۔ مغرب میں ایک انسان مرکز، بے خدا تصور حیات کے ظہور اور انفرادیت کو بطور ایک سماجی قدر تسلیم کئے جانے سے پہلے یہ رویہ اور اس سے وجود پانے والی روایات انسانیت کا مشترکہ سرمایہ رہے ہیں۔ بہت سے ثقافتی تنوع اور تہذیبی اختلافات کے باوجود چڑھتے سورج کی سر زمین سے لے کر اوقیانوس کے پار تک شخصی تعلقات کے باب میں ہر جگہ کسی بھی تعلق کے فریقین کو وفاداری، ذمہ داری اور ایفائے عہد جیسے اصولوں کی پاسداری کا درس ملے گا خواہ ایک شخصی اور بین الشخصی سطح پر تعلق کی حرکیات اور ان میں کارفرما جذبات کی نوعیت کیسی بھی ہو۔ بادی النظرمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیانوں کی توجہ محبت کے تسلسل، دوام اور اظہار کے اصول وضع کرنے کی بجائے کردار کی تشکیل پر مرکوز رہی کیونکہ وہ بخوبی سمجھ چکے تھے کہ آج کسی حسینہ کی محبت میں دنیا تج دینے پر آمادہ نوجوان کے محسوسات میں چند برسوں کے اندر اتنا تغیر آ سکتا ہے کہ وہی حسینہ اسے زندگی کا سب سے بڑا بوجھ اور اسے زندگی میں لے آنا اپنی سب سے بڑی غلطی معلوم ہونے لگے۔ تغیر اور تبدیلی جب وجود پذیر ہو تو دنیا کی کوئی قوت اسے پلٹا نہیں سکتی، اس کی زد میں آ کر فنا ہو جانے والے محسوسات کو دوبارہ زندگی نہیں بخش سکتی ، لیکن تعلق کے فریقین اس کٹھن دور سے کسی طور اکٹھے گزر جائیں تو اس مشکل وقت کے خاتمے پر، ایک نئے مرحلہ عمر میں ، نئے محسوسات پھر سے نمودار ہو سکتے ہیں۔ استعاراً یوں کہہ لیجئے کہ شخصی تعلقات دو افراد کی شخصیات کے مختلف پہلوؤں کے باہم ربط پیدا کرنے سے وجود میں آتے ہیں، تبدیلی کی لہر اور حوادث زمانہ کی تباہ کاریاں بیشتر یا تمام پہلوؤں کو فنا کر سکتے ہیں جو اس ربط کا ذریعہ تھے اور دونوں کو اس تعجب اور حیرانی میں سرگرداں چھوڑ سکتے ہیں کہ آخر یہ تعلق وجود میں آیا ہی کیوں تھا، اس کا جواز کیا تھا، افادیت کیا تھی؟ لیکن اس دشت نوردی میں محض ساتھ رہنا ہی رفتہ رفتہ از خود ایک جواز بن جاتا ہے ، فنا ہونے والے شخصی اوصاف کی جگہ نئے اوصاف، نئے پہلو ابھرتے ہیں اور ایک نیا ربط پیدا کر تے ہوئے تعلق کو نیا روپ، نئی جہتیں دیتے ہیں۔ ایسے میں کچھ عجب نہیں کہ ان کی توجہ دلی احساسات کی ترسیل کے بجائے تعلق کی ذمہ داریوں اور شخصی حدود کے تعین پر مرکوز رہی اور انہوں نے تعلق کو بجائے بطور احساس لینے کے، بطور ایک وعدہ، ایک عہد لیتے ہوئے ایفائے عہد کے اعتبار سے اقدار و روایات کی صورت گری کی۔ جدید سوچ میں انفرادیت اورمسرت کی حیثیت بطور ایک مرکزی قدر ، انفرادیت کے منافی اور خوشی نہ دینے والے کسی بھی مظہر کو زہریلا اور غیر انسانی سمجھا جانا، فرد کی اجتماعی شناخت کو انفرادیت پر تقدم دینے کے سبب روایتی سوچ کو بطور ایک کلیت انفرادیت کے منافی، فرسودہ اور جابرانہ سمجھنا ، تعلق بطور عہد کو بھی فرسودہ اور جابرانہ نکتہ نگاہ بنا دیتا ہے اور ہر حال میں ایفائے عہد پر روایتی اصرا ر یا تو جبر سمجھا جاتا ہے یا حماقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بھلا ساری تحریر پڑھ لی تو کمنٹ کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ عامریت ہی تو ہے، آمریت تو نہیں