پیر، 19 نومبر، 2018

روحانیت کے ماڈرن تاجر

ایکہارٹ ٹولی مغرب میں روحانیت سے وابستہ ایک بہت بڑا نام ہے جس کے معتقدین کی تعداد بلاشبہ لاکهوں میں ہوگی. اس کے الفاظ میں واقعی تاثیر اور قائل کر لینے کی ایسی قوت ہے جو میں سمجهتا ہوں کہ اکتسابی نہیں ہو سکتی، محض مشق سے حاصل نہیں کی جا سکتی، صرف بیان پر گرفت کا ملکہ بهی نہیں، ایسی تاثیر کے لئے دل میں ایک گہرے احساس کی موجودگی اور الفاظ کا اس احساس سے مضبوطی کے ساته پیوست ہونا شرط ہے. ایکہارٹ ٹولی کی زندگی میں ڈپریشن کے ایک طویل دورانیے کے بعد ایک روحانی انقلاب بہت اہمیت کا واقعہ ہے جس کی بنیاد پر اس کی موجودہ شخصیت، مقبولیت اور اثرپذیری کی عمارت کهڑی ہے.
میں نے یہ واقعہ ایکہارٹ ٹولی کے الفاظ میں ہی پڑها ہے اور پوری سچائی کے ساته کہتا ہوں کہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا، ایسے معاملات میں سچائی کا پیمانہ ہمارے دل کی گواہی کے سوا کوئی نہیں اور دل نے یہ واقعہ پڑه کر گواہی دی کہ یہ من گهڑت قصہ نہیں، بنائی ہوئی بات نہیں، ایکہارٹ ٹولی کے بعض محسوسات سے میں ایک شخصی سطح کی شناسائی اور انسیت محسوس کر سکتا ہوں. لیکن ساته ہی یہ بهی کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کے انہی الفاظ میں یہ تجربہ ایک بیچنے کی چیز جیسا محسوس ہوتا ہے۔ بجائے ایک ایسی واردات محسوس ہونے کے جو اظہار کے تقاضوں سے چهلک رہی ہے، یہ ایک پراڈکٹ کی مانند معلوم ہوتا ہے جس کے خریداروں کو وہ اس کے خواص سے مرعوب کرنے کی بهرپور کوشش کر رہا ہے۔ ایکہارٹ ٹولی اور اس کے ایک معاصر وین ڈائیر کی باتوں کو پڑه کر میں سوچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ مہاتما بدھ بهی اگر آج کے زمانے میں ہوتے تو شاید نروان حاصل کرنے کے بعد لوگوں میں چل کر گیان بانٹنے کی بجائے بیٹه کر نروان کے موضوع پر کوئی بیسٹ سیلر بک لکهنے اور اس کے بل پر اپنی زندگی سنوار لینے کا ہی سوچتے۔ کیا ایسا ہے کہ آخرت کی جوابدہی سے عاری اور پوری طرح سے دنیا پر مرتکز کسی فکر کا روحانی تجربہ، اپنی اعلی ترین شکل میں بھی منڈی کی جنس سے بلندتر کسی سطح تک اٹھنے کی سکت نہیں رکهتا؟

ہم سب زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ایک روحانی قسم کے تجربے سے گزرتے ہیں۔ دکه، اذیت یا مایوسی کا کوئی لمحہ جہاں ہمیں گهٹنوں کے بل گر کر شکست تسلیم کر لینے، اپنی انسانی حدود کے ادراک اور اپنی بےبسی و لاچارگی کے اعتراف پر مجبور کر دیتا ہے، وہیں وہ ایک لمحہ خدا کی رحیمی، کریمی، کبریائی اور جمال کو بهی ہم پر ایسے طور سے آشکار کرتا ہے جو سوچوں، فکروں اور گهمنڈ سے آلودہ لمحات میں ممکن ہی نہیں۔ اس ایک لمحے کے لئے زندگی کی حقیقت اپنی کلیت میں ہمارے شعور پر وارد ہوتی ہے اور اپنی چهب دکهلا کر غائب ہو جاتی ہے۔ یہ کوئی پراسرار صوفیانہ واردات نہیں بلکہ ایک عمومی انسانی تجربہ ہے اگرچہ لسانی تناظر میں رونما ہونے والے، شعوری ادراک کی گرفت میں آ سکنے والے تجربات کی مانند پردہ شعور پر وارد نہیں ہوتا. ازبسکہ یہ تجربہ زندگی کے کسی اہم اور نازک موڑ پر واقع ہوتا ہے اور عموما اپنے ایسے گہرے اثرات چهوڑ جاتا ہے جنہیں معنی دے کر، ایک لسانی پیرہن اوڑها کر اپنی معنوی بنت میں جذب کر لینا شعور کے لئے ناگزیر ہو جاتا ہے، شعور کی اس تجربے کو معنی دینے کی کوشش لا محالہ عصری رحجانات اور فرد کے شخصی اوصاف سے معنی کشید کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ یہ تجربہ اپنی معنوی صورتگری عبادات سے لگاو، خوش اخلاقی، سخاوت، نرم دلی اور ایثار جیسے مظاہر میں بهی کر سکتا ہے اور معرفت کے غرور، زندگی کی حقیقت پا لینے کے گهمنڈ یا دوسروں سے برتر اور بہتر ہونے کے غرور کی شکل میں بهی! اس کے اثرات وقتی بهی ہو سکتے ہیں اور عمر بهر کے لئے بهی! تصوف اور روحانیت کے نام پر مصنفین، کتابوں اور بابوں کی گرم بازاری دیکه کر میں سوچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حقیقت میں یہ انسانی فطرت کے ہر تقاضے سے منفعت کشید کرنے کے سرمایہ دارانہ رحجان کی اپنے روحانی تجربے کے لمحے کو معنوی جامہ پہنانے کی انسانی کاوش کے ساتھ تجارتی پارٹنرشپ کے مظاہر ہیں. جس نظام میں زندگی گزارنے کا فن لائف کوچز کے معاوضوں اور میاں بیوی کی محبت ماہر نفسیات کی فیسوں کی محتاج ہو کر رہ جائے اس نظام سے یہ توقع کیونکر کیجئے کہ روحانی تقاضے اور ان کی تسکین سرمایہ دار کے دست طمع سے محفوظ رہ جائے.

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بھلا ساری تحریر پڑھ لی تو کمنٹ کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ عامریت ہی تو ہے، آمریت تو نہیں