جمعرات، 10 دسمبر، 2015

علامہ اقبال سے وابستہ بچپن کی دو یادیں

(1)
ایک دن میں اپنی کاپی میں علامہ اقبال کی نظم "بلبل اور جگنو" کی پیروڈی کسی رسالے سے کاپی کر لایا،

سیٹ پر کسی پجیرو کی تنہا
ڈاکو تھا کوئی اداس بیٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پر آئی
لوٹنے مارنے میں دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر موڑ پر لگا ہوا ہے ناکہ
سن کے ڈاکو کی آو و زاری
ایس پی کوئی پاس ہی سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جال و دل سے
پولیس والا ہوں گرچہ میں ذرا سا

کیا غم ہے جو راہ میں ہیں ناکے
میں تیرے ساتھ بیٹھ کر چلوں گا
رشوت سے مجھے ملی ہے وردی
پرچی نے مجھے ایس پی بنایا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
کھاتے ہیں جو مال دوسروں کے
کسی حاسد نے سر سے شکایت کر دی کہ عامر علامہ اقبال کا مذاق اڑا رہا ہے، ان کی نظم کو الٹ پلٹ کر کے لکھ لایا ہے اور اب دوستوں کو سنا رہا ہے۔ انہوں نے موقعے پر آن پکڑا، کاپی ملاحظہ کی اور کھڑا ہونے کا حکم دیا۔ آپ خود ستائی نہ سمجھیں تو عرض کروں کہ کلاس کا لائق ترین طالبعلم شمار ہوتا تھا اور سزا کی نوبت کبھی کبھار ہی آتی تھی، وہ بھی ہلکی پھلکی ایک دو چھڑی، لیکن اس دن ٹھیک ٹھاک نالائق طالبعلموں کی مانند پے در پے چھڑیا ں پڑیں، ہتھیلیاں لال سرخ ہو گئیں اور آنسوؤں تک نوبت پہنچی تو تھوڑا نرم پڑے۔ کہنے لگے "تم نہیں جانتے کہ علامہ اقبال کے پاکستانی قوم پر کتنے احسانات ہیں، اپنے محسن کا یوں مذاق اڑایا جاتا ہے؟" ہتھیلیاں سرخ کروانے اور ایک گھنٹہ کلاس روم سے باہر کھڑے رہنے کے بعد دوبارہ کبھی اقبال کا مذاق نہ اڑانے کے وعدے پر معافی ملی۔ فیس بک پر مرشدی اقبال کے کچھ اشعار کی تضمین پوسٹ کرنے کے بعد سر سعید یاد آئے تو سوچ میں پڑ گیا کہ سر اگر اس تضمین کو دیکھتے تو کیا کہتے؟ دل کو یہ کہہ کر تسلی دے لی کہ دل لگی تضحیک میں شمار نہیں ہوتی، اگر غالب خوباں سے چھیڑ روا رکھتے ہیں تو ہم بزرگاں سے تھوڑی بہت چھیڑ کیوں نہیں رکھ سکتے، لیکن کیا سر سعید اس دلیل سے قائل ہو جاتے؟

(2)

مرشدی اقبال کی نظم "ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام" پہلے مرتبہ جب پڑھی تو جماعت ششم کا طالبعلم تھا۔ اشعار کی روانی اور غنائیت بہت پسند آئی لیکن سمجھ اتنی ہی آئی جتنی جماعت ششم کے ایک طالبعلم کو آ سکتی ہے، یعنی صفر بٹا صفر! پہلے ہی شعر میں "زناری برگساں" کی نامانوس اور عجیب و غریب ترکیب ذہن میں یوں اٹکی کہ سوچ و بچار کا سارا پہیہ جام کر دیا۔ سوچ سوچ کر سر دکھنے لگا، لاچار ہو کر کتاب یا رسالہ جو بھی تھا، اگلے دن بستے میں رکھ کر سکول لے گیا اور چھٹی کے بعد سر سعید کو ان کے دفتر میں جا پکڑا کہ اس کا مطلب سمجھائیے۔ سر بانگ درا کی نظموں کی تشریح بڑے دلنشیں انداز میں کیا کرتے تھے لیکن ضرب کلیم سے ان کی اتنی شناسائی نہ تھی، پھر بھی انہوں نے اپنی لاعلمی پر ڈانٹ پھٹکار یا کسی لا یعنی تشریح کا پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کی، سادہ دلی سے اعتراف کیا کہ اس کا مطلب انہیں بھی معلوم نہیں، پھر بولے "چلو، ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔" پہلے انہوں نے الماری سے فیروز اللغات کا ایک بھاری بھرکم نسخہ نکالا جو اتنا بھاری تھا کہ کسی لڑائی جھگڑے میں بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا تھا، ورق الٹے پلٹے تو "زناری" ایک جگہ مل گیا، یک لفظی مطلب لکھا تھا،"کافر"۔ اس دریافت نے ترکیب کو جتنا آسان کیا، اتنا ہی الجھا دیا۔ "زناری برگساں"، یعنی "برگساں کا کافر"؟ یہ برگساں کیا ہوا؟ کامن سینس کہتی تھی کہ برگساں کسی علاقے کا نام ہونا چاہئے، جیسے اقبال نے خود کو ایک جگہ "کافر ہندی" کے لقب سے پکارا ہے، اسی طرح فلسفہ زدہ سید زادے کو برگساں کا کافر کہا ہوگا، لیکن برگساں کے کافروں میں ایسی کیا بات ہو گی کہ اقبال نے فلسفہ زدہ سید زادے کو ان سے تشبیہہ دے ڈالی؟ غالباً ان کا کفر بھی فلسفے سے آلودہ ہو گا، یا یوں کہہ لیجئے کہ ان کا فلسفہ کفر سے آلودہ ہو گا۔ لغت کے اوراق مزید الٹے پلٹے، برگساں کو نہ ملنا تھا، نہ ملا۔ سر نے فیروز اللغات واپس الماری میں رکھی اور چند نسبتاً مختصر الوجود کتابیں نکال کر ان کی ورق گردانی کی۔ اس وقت کے تاثرات ابھی بھی یادوں پر بڑے واضح انداز میں مرتسم ہیں، ان کا ایک کتاب رکھ کر دوسری نکالنا، ورق الٹنا پلٹنا اور میرا خاموشی، تجسس اور احترام کے ساتھ بیٹھنا، گویا کسی معبد میں کوئی بہت ہی اہم اور مقدس رسم ادا کی جا رہی ہے۔ یہ الگ بات کہ برگساں کا کوئی پتا نشان ان کتابوں میں بھی نہ ملا اور ہماری پندرہ بیس منٹ کی یہ کھوج اسی مفروضے پر منتج ہوئی کہ برگساں کسی علاقے کا ہی نام ہوگا۔ جہد کا حاصل ایک موہوم سا مفروضہ ٹھہرا، لیکن ان کی شفقت تا عمر یاد رہے گی۔ اپنی چھوٹی بہنا کے سکول سے واپسی پر جو گلے شکوے سنتا ہوں کہ بھائی، ٹیچر سے فلاں سوال پوچھا تھا مگر انہوں نے ڈانٹ کر بٹھا دیا تو وہ منظر آنکھوں میں گھوم جاتا ہے۔ نصاب سے ہٹ کر سوال، جواب نامعلوم اورچھٹی کے بعد کا وقت، اگر وہ چاہتے تو ایک خشونت آمیز نگاہ سے طالبعلم کا سارا جوش وہیں ٹھنڈا کر سکتے تھے۔
ہنری برگساں سے تعارف بہت بعد میں ہوا، "زنار" کی مناسبت سے زناری اور برگساں کا تعلق بہت، بہت بعد میں سمجھ آیا اور یوں پہلے شعر سے بات آگے بڑھی۔ اب دوسرے شعر پر اٹکی ہوئی ہے کہ ہیگل کے فلسفے سے کما حقہ شناسائی ہو تو جان پائیں کہ مرشد نے اس کے طلسم کو خیالی اور صدف کو گہر سے خالی کیوں کہا۔ یوں کہئے کہ پندرہ سالوں میں ابھی دو اشعار سے آگے بات نہیں بڑھی، ایسے میں کسی کو کلام خداوندی کی کل تشریح کا اجارہ دار بنے دیکھتے ہیں تو ان کے حوصلے پر بھی حیرت ہوتی ہے اور فہم کی حدود پر بھی۔


کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں

بھلا ساری تحریر پڑھ لی تو کمنٹ کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ عامریت ہی تو ہے، آمریت تو نہیں