جمعہ، 6 جون، 2014

منڈی موڑ - ٣


دینہ سے آگے انجن کے زور بازو کی آزمائش شروع ہو جاتی ہے، گاڑی کی رفتار دھیمی ہونے لگتی ہے، انجن کی چمنی سے نکلتا دھواں زیادہ کثیف اور سیاہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ انجن زیادہ خستہ حال ہو تو کسی کسی ڈھلوان پر گاڑی کی رفتار اتنی کم ہو جاتی ہے کہ آپ با آسانی ایک ڈبے سے اتر کر کسی بھی دوسرے ڈبے میں سوار ہو سکتے ہیں۔یہاں جا بجا موڑ ہیں، گاڑی بار بار یوں خم کھاتی ہے کہ پہلے ڈبے کے دروازے میں کھڑے مسافر آخری ڈبے کے مسافروں کو دیکھ کر ہاتھ ہلا سکتے ہیں۔ جوئے کہستاں کی مانند لچکتی، سرکتی، سنبھلتی اور بڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئی ہماری ریل گاڑی ترکی کے خم تک پہنچتی ہے جو اس راہ کاسب سے بڑا خم ہے، گھوڑے کے نعل کی شکل کا یہ خم پوری وادی کے گرد گھومتا ہوا ترکی ریلوے سٹیشن پر جا کر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس خم پر گاڑی کا پہیہ جو پڑتا ہے تو پھر گاڑی کی کمرسٹیشن سے پہلے سیدھی نہیں ہو پاتی۔

ترکی سٹیشن سے آگے ایک سرنگ ہے جسے پوٹھوہار کا دروازہ کہا جائے تو مناسب ہے۔ یہاں آکر سطح مرتفع پوٹھو ہار کے ارتفاع یعنی بلندی کا سفر ختم ہوتا ہے اور مسطح زمین شرو ع ہوتی ہے جس پر ریل گاڑی ایک بار پھر پوری رفتار سے بھاگنے لگتی ہے۔ سرنگوں سے آگے سوہاوہ ہے، گجرخان ہے، روات اور مندرہ ہیں، ان کے بیچ چھوٹے چھوٹے اور کئی سٹیشن بھی آتے ہیں۔ پوٹھو ہار کے دیہات وسطی پنجاب کے میدانوں سے الگ ایک جداگانہ منظر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ راہ میں جا بجا بڑی بڑی کرینیں نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں کاشت کرنے کے لئے زمین ہموار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کیوں نہ ہو کہ قدیم سلطنتوں کے زمانے سے اب تک سرمایہ، صلاحیتیں ، تجارت اور آبادی راجدہانیوں کے ارد گرد مرتکز ہوتے چلے آئے ہیں۔ یہاں بھی بچے ریل گاڑی کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتے ہیں، کئی جگہوں پر ریل گاڑی گھروں کے آنگن میں جھانکتی ہوئی گزرتی ہے جہاں چارپائیوں پر بیٹھے گھر والے اور صحن میں کھیلتے بچے گزرتی ریل گاڑی پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈال کر پھر سے اپنے مشاغل میں مصروف ہو جاتے ہیں جیسے اتنی ساری نگاہوں کا ان کے آنگن میں جھانکنا معمول کی ایک ایسی بات بن چکی ہو جس کی انہیں زیادہ پروا نہیں۔ مسافر اپنی نشست پر کاہلانہ انداز میں بیٹھا تیزی سے بھاگتے ہوئے مناظر کو دیکھتا رہتا ہے مگر یوں کہ سوچیں کہیں اور ہوتی ہیں اور مسافر کہیں اور! ترکی سے گزرنے کے بعد مسافر کی ساری حسیات سمٹ کر مرگلہ کی پہاڑیوں پر مرکوز ہونے لگتی ہیں، آنکھوں میں جکارندا کے نیلے پھولوں والے درخت، سبزے سے ڈھکی پہاڑیاں اور دو طرفہ سبزے سے ڈھکی سنسان سڑکیں گردش کرنے لگتی ہیں۔ فیصل مسجد میں ہونے والی اذان کی آواز کانوں میں گونجنے لگتی ہے، ہائیکنگ کے لئے مختص کچے راستوں سے بارش کے بعد اٹھنے والی مٹی اور پتوں کی ملی جلی باس ار د گرد بکھر جاتی ہے اور اسی طرح راولپنڈی سٹیشن آ جاتا ہے۔ 
اپریل کی اس شام جب مسافر راولپنڈی سٹیشن پر اترا تو سورج غروب ہونے میں ایک گھنٹہ رہ گیا تھا۔ ساری راہ دھوپ اور بادل آپس میں آنکھ مچولی کھیلتے آئے تھے لیکن راولپنڈی میں دھوپ تھی، گرما کی چمکیلی روشن دھوپ نہ سہی ، بہار کی زرد پڑتی دھوپ بہر حال ابر آلود گوجرانوالہ سے چلنے والے مسافر کو بہت بھلی محسوس ہوئی۔ سابقہ پنڈی گردی سے اخذ کردہ اعتماد کے ساتھ سٹیشن سے نکلا ، ایک دو رکشے والوں کی آوازوں کو بے نیازی سے نظر انداز کرتے ہوئے راجہ بازار کی طرف چل نکلا ۔سوال یہ تھا کہ اب کیا؟ مسافر کو مطلب سفر سے تھا، وہ تو پورا ہو چکا ! واپسی کی راہ ناپنے سے پہلے کچھ کرنے، کہیں جانے کا ارادہ ہے؟ 
قرعہ فال ہمیشہ اسلام آباد کے نام نکلتا ہے، فاطمہ جناح پارک کی روشوں پر ٹہلنا، فیصل مسجد میں ایک نماز ، وقت ہو تو دامن کوہ یا شکر پڑیاں کا قصد ، سرکار بری امام کی درگاہ پر سلام عقیدت ، لوہی دندی کی تھکا دینے والی بلندی کا سفر ، ہائیکنگ ٹریلز کے خاموش راستوں پر پاؤں دھرنا ، کچھ بھی نہ ہو تو انجان سڑکوں اور نا معلوم گلیوں میں بے مقصد پھرنا، وقت ہو تو مسافر کے پاس ہمیشہ کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔ لیکن اس شام فوارہ چوک میں کھڑے ہو کر مسافر نے خود سے پوچھا ’’اب کیا؟‘‘ تواسلام آباد نے آواز بھی دی ’’اس طرف!‘‘ لیکن اندر سےآوا،ز ابھری ۔ "کچھ بھی نہیں، آج کچھ بھی نہیں!" مسافر خاموشی سے سامنے کھڑی چاند گاڑیوں کی طرف چل پڑا۔ کچھ بھی نہیں تو پیر ودہائی کا جنرل بس سٹینڈ تو ہے ، وہاں گوجرانوالہ جانے والی بسیں اور ویگنیں تو ہیں۔ اسلام آباد نہ سہی، گوجرانوالہ تو ہے۔
انجان شہر میں ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی مہنگی پڑتی ہے، مسافر تین چار مرتبہ یہاں سے مختلف جگہوں کے لئے سواری پکڑنے کے بعد اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ اسے سب پتا ہے کہ کونسی جگہ کے لئے گاڑی کہاں سے ملے گی۔ کسی سے پوچھے بغیر ایک چاند گاڑی کی عقبی نشست پر بیٹھ گیا، اس گمان میں کہ آخری سٹاپ پیر ودہائی ہی ہو گا۔ جب چاند گاڑی نے دو تین ایسے موڑ کاٹے جنہیں یادداشت نے پہچاننے سے صاف انکار کر دیا تو مسافر تھوڑا سا ٹھٹکا مگر یہ کہہ کر خود کو تسلی دے لی کہ نئی جگہ پر ایسے وہم پڑتے ہی رہتے ہیں، فکر کی کوئی بات نہیں۔فکر تب لاحق ہوئی جب چاند گاڑی ایک با رونق چوک میں رکی جہاں چاند گاڑی والے نے اگنیشن میں چابی گھما کر گاڑی بند کر دی اور دیگر تمام ہمراہی نیچے اترنے لگے۔ انکشاف ہوا کہ چاند گاڑی اس سے آگے نہیں جائے گی، ایک جانب بڑے الفاظ میں لکھا ہوا تھا ’’بڑا چوک، ڈھوک حسو‘‘ تب مسافر کی خو د اعتمادی کا گراف تھوڑا سا نیچے آیا۔ انجان راہیں انجان ہی ہوتی ہیں، خود اعتمادی آگہی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ خودی کو تھوڑا سا پست کر کے ایک راہگیر سے پیر ودہائی جانے کے لئے معلومات لیں اور اسی چوک میں ویگن کے انتظار میں ایستادہ ہو رہا۔ سور ج تیزی سے مغرب میں اتر رہا تھا۔ 
جو ویگن آئی، اس کے کنڈکٹر نے ’’پیر ودہائی ‘‘ کی دہائی کے جواب میں ’’ منڈی موڑ ‘‘ کا مژدہ سنایا۔ یہ نام جانا پہچانا تھا، اس حوالے سے کہ وہاں سے گوجرانوالہ کی ویگنیں مل جاتی ہیں۔ اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں ، خواہ بھینگی ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ پیر ودہائی پر نظر ڈالو تو منڈی موڑ پر جا پڑے، گوجرانوالہ کے لئے سواری دونوں جگہ سے مل جاتی ہے۔مسافر نے کنڈکٹر کی صدا پر لبیک کہا اور بڑا چوک، ڈھوک حسو سے عازم منڈی موڑ ہوا۔ جب منڈی موڑ پر ویگن سے اترا تو رات کا اندھیرا دن کو مکمل طور پر نگل چکا تھا، افق پر سرخی تک باقی نہ رہی تھی اور مسافر کو یاد آ چکا تھا کہ گوجرانوالہ سے اب تک وہ بھوک کو چائے ، چپس اور بسکٹ کے سہارے بہلاتاآرہا ہے ۔ 
ویگنوں کے اڈے کے سامنے کھڑے ہو کر سر کھجایا، ادھر ادھر نگاہ دوڑائی تو احاطہ نگاہ میں ریستوران یا ڈھابہ قسم کی کوئی چیز نہ آئی۔ چھوٹی چھوٹی ہتھ ریڑھیوں میں فروٹ لادے کچھ پٹھان فٹ پاتھ پر بیٹھے تھے، ایک سٹال پر کوئی حلوہ نما چیز فروخت ہو رہی تھی جسے نیم تاریکی میں پہچاننا کافی مشکل تھا۔ سڑک کے پار دوسری طرف البتہ کچھ روشنیاں اور پیپسی کے بڑے بڑے لوگو والے چند کاؤ نٹر البتہ گواہی دیتے تھے کہ یہاں کچھ ہے۔ پیدل برج کی سیڑھیاں چڑھا، بلندی سے ایک اچٹتی سی نگاہ سڑک کے دونوں طرف ڈالی۔ تاحد نگاہ ٹریفک کی روشنیوں کے سوا کچھ نہ دکھائی دیا، آتے لوگ اور جاتے لوگ، آتی گاڑیاں اور جاتی گاڑیاں، کھڑے لوگ اور بیٹھے لوگ، کھڑی گاڑیاں اور رینگتی گاڑیاں ، شور ہی شور، لوگ ہی لوگ، روشنیاں ہی روشنیاں ، اس سب کے با وجود تاریکی منظر پر یوں حاوی جیسے دنیا بھر کے چراغ حوصلہ ہار بیٹھے ہوں۔
برج کی دوسری سمت پیٹ پوجا کے لئے ایک سے زیادہ مندر ، سلیس زبان میں کہئے تو ڈھابے، ذرا تکلف سے کام لیجئے تو ریستوران ،موجود تھے۔ ایک سمت سے آتی خوشبو کی ڈور تھام کر مسافر چلا ! ڈور کے دوسرے سرے پر ایک پختون بھائی کو بیٹھے سیخ کباب اور چپل کباب بھونتے پایا۔
یادوں کے منظر نامے پر ایک بھولی بسری یاد ابھر آئی،۲۰۰۶ کا موسم گرما، کالام کی حسین وادی، دن بھر مہو ڈنڈ جھیل اور اس سے بھی آگے جھیل سیف اللہ کے کنارے آوارہ گردی کے بعد رات کو واپس لوٹے مسافر اور اس کے ہمراہی کالا م کے مرکزی بازار میں بحث کرتے چلے جا رہے تھے کہ رات کا کھانا کیا ہو۔ ایک طرف نیلے بورڈ پر بڑے بڑے سفید حروف میں لکھا ہوا تھا ’’تخت بھائی کے مشہور چپل کباب‘‘ بورڈ کے نیچے ایک نہایت فربہ شخص بیٹھا چپل کباب تل رہا تھا۔ ازراہ دل لگی یہ بحث چھڑ گئی کہ تخت بھائی کون ہے جس کے چپل کباب اتنے مشہور ہیں، کسی نے کہا وہ تخت پر بیٹھ کر کباب نوش کرتا ہوگا اسی لئے اس کا نام تخت بھائی پڑ گیا، کسی نے کہا وہ تخت پر بیٹھ کر کباب تلتا ہو گا۔نکتہ یہ اٹھا کہ اگر ایسی بات ہے تو یہ مرد فربہ بھی ایک تخت پر بیٹھا کباب تل رہا ہے، کیا اسے بھی تخت بھائی کہا جا سکتا ہے؟ایک شریر دوست نے قریب ہو کر پوچھ لیا۔ ’’ بھائی جان، تخت بھائی آپ ہی ہیں؟‘‘ وہ مرد فربہ مسکرایا، ہمارے سوال کا جواب تو نہ دیا لیکن بڑے اخلاق سے آکر بیٹھنے اور چپل کباب کھانے کی دعوت دی اور لیجئے ہمارے رات کے کھانے کا مینو طے ہو گیا۔ لائٹ گئی ہوئی تھی، ایک لڑکے نے دکان کے اندر ایک میز پر موم بتی جلا دی اور کبابوں کی پلیٹ کے ساتھ موٹی موٹی پٹھانی روٹیوں کی چنگیر رکھ دی۔ مسافر تھکے ہوئے تھے اور کباب ذائقہرکھتے تھے، نہ کوئی کباب پلیٹ میں بچا نہ روٹی چنگیر میں ، کھانا کھاتے کھاتے سب ہمراہیوں نے یہ متفقہ فیصلہ بھی صادر کر دیا کہ اس بھائی نے ہمارے سوال کا جواب نہیں دیالہٰذا خاموشی کو اقرار کے مترادف اور اسی بھائی کو تخت بھائی سمجھا جائے۔ 
کالام کی رات ، تخت بھائی کی مسکراہٹ اور دوستوں کی ہنسی کو یاد کرتا ہوا مسافر دکان کی سیڑھیاں چڑھا، چپل کبابوں پر نگاہ پڑی تو یادوں کی ساری رومانویت پر پانی پھر گیا۔ یہ تخت بھائی کے چپل کباب ہر گز نہ تھے۔وہ کباب ایک وسیع و عریض تھال کے گوشے میں پیندے سے چپکے پڑے سنسنا رہے تھے ، مصالحہ جات ان کبابوں کے آمیزے میں گوندھ دئیے گئے تھے اس لئے انہیں الگ سے مصالحہ جات کی ضرورت نہ تھی۔ یہ چپل کباب مصالحوں کے ڈھیر میں دھنسے پڑے تھے اور چھوٹے چھوٹے پیالہ نما برتنوں میں تلے جا رہے تھے۔ رومانویت کا پردہ ہٹا تو چپل کباب کی کشش بھی جاتی رہی ۔ گاہکوں کو نہایت پھرتی سے نمٹاتے لڑکے نے آرڈر پوچھا تو مسافر نے سادہ کباب کہہ دئیے۔ لیجئے مسافر کی نظروں کے سامنے ایک پیالہ آگ پر دھر اگیا، اس میں خوردنی تیل ڈالا گیا، اس نے شور مچانا شروع کیا تویکے بعد دیگرے پیاز ، ٹماٹر اور ہری مرچ کا نزول ہوا، گرم مصالحہ قسم کی کوئی چیز چھڑکی گئی، پھر تین کچے کباب اس تیل میں اترے ، سنسناہٹ کا شور مزید بڑھ گیا اور اسی تناسب سے اشتہا بھی! پتا چلا کہ یہ کباب جس برتن میں تلے جاتے ہیں، اسی میں کھائے جاتے ہیں مبادا برتن سے پلیٹ میں منتقلی کے دوران وہ مصالحے جو ان کبابوں کو اشتہا انگیز بناتے ہیں، برتن کے پیندے سے ہی چپکے رہ جائیں۔ نان گرم و آب خنک کی فارسی کہاوت پر برصغیر میں اتنی مبالغہ آرائی کے ساتھ عمل ہوتاہے کہ مہمانوں کو زبان جلا دینے والی گرم روٹی اور گلا جکڑ لینے والا یخ پانی فراہم کرنا باعث فخر سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کہاوت کی انتہا اس شام منڈی موڑ پر دیکھی ، یعنی کہ آگ سے اتارتے ہی برتن ایک چنگیر میں رکھا اور گاہک کے سامنے دھر دیا۔ پہلا لقمہ عجلت میں لیا تو زبان جل گئی، انگارے کی مانند گرم لقمے کو حلق سے اتارنے کی گنجائش تھی نہ اگلنے کا سوال پیدا ہوتا تھا، منہ میں ادھر ادھر پھرانے کی کوشش کی تو جس گال سے یہ لقمہ مس ہوتا وہی صدائے احتجاج بلند کرتا۔ جوں توں کر کے یہ لقمہ حلق سے اتار ا اور باقی کا کھانا معقول حد تک ٹھنڈا ہونے کے انتظار میں موقوف کیا۔ادھر ادھر نظریں بھٹکنے لگیں۔
ٹریفک کی لال پیلی روشنیوں، ان روشنیوں میں ادھر سے ادھر بھاگتی انسانی پرچھائیوں اور بڑے بڑے مشینی ہیولوں کے درمیاں بھٹکتی مسافر کی نگاہ سڑک پار اسلام آباد کی روشنیوں پر ٹھہری ۔ دل نشیں اور دل فریب ،جتنی مہربان اتنی ہی بے مہر، منڈی موڑ کے اس گوشے کی جانب بے نیازی سے تکتی یہ روشنیاں کہہ رہی تھیں ’’ جتنا نظر انداز کرنا ہے ، کر لو! جتنا بھاگنا چاہتے ہو ، بھاگ لو! تمہیں پتا ہے کہ آخرتمہاری منزل کہاں ہے۔‘‘ اور کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ سماعت میں نہیں اترتیں، سماعت ان کی جانب کھنچی چلی جاتی ہے۔ کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب انسان خود ہی اپنے روبرو کھڑا ، خود ہی اپنے سامنے فیصلے کی مسند پر بیٹھا ہوتا ہے اور ایسے لمحات میں خود انکاری، کٹھ حجتی، دلیل بازی کی قطعاً گنجائش نہیں ہوتی، یہ سو فیصد سچ کے لمحات ہوتے ہیں جہاں جھوٹ دخل اندازی تو کجا، جھانک کر دیکھنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔ دل کی خشک زمین پر چند بوندیں پڑیں تو ان کی نمی پلکوں کے گوشوں تک امڈی۔ لمحہ بھر کو گمان گزرا کہ واپسی کا سفر ایک واہمہ ہے، مسافر کو کہیں بھی نہیں جانا!کہ اس کا گھر یہیں کہیں آس پاس ہے اور وہ صرف ٹہلنے کے لئے گھر سے نکلتا، ٹہلتا ٹہلتا اس دکان پر لذت کام و دہن کے لئے آبیٹھا ہے! کہ گوجرانوالہ صرف ایک واہمہ اور اسلام آباد حقیقت ہے۔ کہتے ہیں گھر وہاں ہوتا ہے، جہاں انسان کا دل ہو ۔ سنگ و خشت سے مکان بنتے ہیں ، مزار بنتے ہیں، محل بنتے ہیں لیکن گھر نہیں! گھر بنانے کے لئے کچھ اور درکار ہے جو کسی ہارڈ وئیر سٹور پر نہیں ملتا۔ اس لمحے مسافر نے محسوس کیا کہ وہ سچ مچ کہیں گھر کے آس پاس بیٹھا ہے، وہ بے چینی جس سے پناہ نہ گوجرانوالہ میں ہے نہ لاہور میں، جو مسافر کو یوں کو بہ کو لئے پھرتی ہے، جس سے امان نہ ملازمت کے دھندوں میں ملتی ہے نہ مشاغل کے بکھیڑوں میں، وہ بے چینی پل بھر کے لئے تھم سی گئی ہے اور ایک گہرے، اتھاہ سکون نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ خدا کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک، گھر کا سکون!
ٹیکنالوجی نے انسان پر جتنی آسائشات کے در کھولے ہیں، اتنے ہی عذابوں کے در بھی وا کئے ہیں۔ فیس بک نے آن لائن ’’موجودگی‘‘ کا جو فریب تخلیق کیا ہے، اس نے زمانہ قدیم سے اب تک چلے آتے قربت اور دوری کے سارے تصورات کو تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ اگر اسے موجودگی کہئے تو سکرین پر چمکتے پکسلز میں کچھ بھی ایسا نہیں جو قربت کی آسودگی کا مترادف ہو، اگر دوری کہئے تو دل کے یہ تار اطلاعات کی ا یک میکانکی ترسیل سے مسلسل مرتعش کیوں ہیں؟ کیوں انہیں قرار نہیں آجاتا؟ کیوں یہ طوفان تھم نہیں جاتا ؟ اے دل بنانے والے اور اس کے سارے بھیدوں کو جاننے والے،تیری رحمت انگلی تھام کر حقیقت تک لے جائے تو لے جائے، ورنہ جستجو کے بس میں بت تراشنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اور اسلام آباد کیا ہے ، حسیات کے تقاضوں نے ایک بت تراش رکھا ہے۔ اے مرگلہ تیری پہاڑیوں سے کہیں زیادہ سر سبز پہاڑیاں شمال کے دامن میں ہیں۔ اے اسلام آباد تیری خوبصورتی ناران اور چترال کی گرد کو بھی نہیں پہنچتی۔ اے راول جھیل ، سیف الملو ک اور سیف اللہ جیسی جھیلوں کے سامنے تیری حقیقت کیا ہے ؟ اے شہر بے مہر، تیری گلیوں اور سڑکوں میں سوائے سلیقے اور ستھرائی کے کیا رکھا ہے؟ بچوں کی معصوم ہنسی سے گونجتی گوجرانوالہ کی گرد آلود گلیوں پر تیرے سناٹے کو کیا امتیاز حاصل ہے؟ ہاں، مگر تجھے ایک نام سے وابستگی کا امتیاز حاصل ہے ۔ ایک تصور ہے جس تک آنکھوں کی رسائی نہیں ،تجھے اس کا استعارہ بنا رکھا ہے۔ تیرے پھولوں نے رعنائی ایک آنچل کے تصور سے مستعار لے رکھی ہے، تیری شفق کا حسن کسی کے عارض سے چرایا ہوا ہے، تیری شب کا سرمایہ افتخار ایک زلف کا تصور ہے، تیرے دن کی آب و تاب کسی رخ روشن کے خیال کا مرہون منت ہے۔ 
وہ ایک لمحہ گزر گیا، اسلام آباد کی روشنیاں پھر پس منظر میں چلی گئیں ، ٹریفک کی روشنیوں اور ان میں لرزاں پرچھائیوں نے ایک بار پھر پیش منظر پر قبضہ کر لیا ۔ مسافر سوچتا رہا، سوچتا رہا۔جذبات، اظہار کا تقاضا کرتے ہیں مگر جہاں ان کی قدر نہ ہو، وہاں انہیں سینے میں سنبھال رکھنا بہتر ہے۔ جہاں دل کی آواز کو آپریشن تھیٹر میں لٹا کر اس کا سینہ چاک کیا جاتا ہو اور ٹٹول ٹٹول کر اپنے مفروضات کی تائید تلاش کی جاتی ہو ، اس ماحول سے کنارہ کشی بہتر ! کون جانتا ہے کہ منزل کہاں ہے، انسانی فطرت ویسے ہی سرابوں کی پجاری ہے۔موزوں وقت کا انتظار کیا جا سکتا ہے ۔ ملتا ضرور ہے،موزوں وقت نہیں تو کوئی اورفرد ، سننے والا اور سمجھنے والا ،یا تقدیر زیادہ مہربان ہو تو سنے بغیر سمجھنے والا، جس سے دل کی بات کہنے کے لئے ہر وقت موزوں وقت ہو ! دنیا امید کے سہارے قائم ہے ۔مگر ایسے معاملات میں دل جیسا بحر بے کنار بھی چھوٹا پڑ جاتا ہے، کہیں تنہائی میں بیٹھے، کچھ یاد آ جانے پر، باتوں باتوں میں محبت کا ذکر آ جانے پر، ایسے کسی موڑ پر، جذبات چھلک اٹھتے ہیں اور پھر رہا نہیں جاتا، ضبط کے سارے بند ٹوٹ جاتے ہیں۔ براہ راست دل کی بات کہنے کا موقع دستیاب نہ ہو تو بات کہیں جہاں بیتی کا روپ دھار لیتی ہے ، کہیں جہاں گردی کی روئیداد بن جاتی ہے ، کہیں فکر جہاں کی شکل میں ڈھل جاتی ہے مگر بات وہی رہتی ہے۔ مرشدی اقبال کیا خوب کہہ گئے ہیں
  فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا                        حرف تمنا جسے کہہ نہ سکیں روبرو                                                  
رات گئے واپس لوٹتا مسافر سوچ رہا تھاکہ اس ایک لمحے کی خاطر ساڑھے چار گھنٹے اسلام آباد کی جانب سفر اور پھر ساڑھے چار گھنٹے واپسی کا سفر کوئی ایسا مہنگا سودا نہیں۔ ضروری تو نہیں کہ نفع و نقصان کے سارے پیمانے ایک سے ہوں۔ 

5 تبصرے :

  1. قبلہ اس سفر نامے کو پڑھنے کے بعد میں آپ کا گوجرانوالہ ملاقاتنہ کرنے کا جرم معاف کرنے کا ھرگز کوئی ارادہ نہیں رکھتا

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. قبلہ یہ کوتاہی مسافر سے مسلسل سر زد ہوتی رہتی ہیں۔ فطرت سے لڑنے کی کوشش کر رہا ہوں، دیکھئے کوئی تلافی کی صورت کب نکلتی ہے۔ :)

      حذف کریں
  2. یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت خوب منظر کشی، کافی عرصے بعد اچھی نثر پڑھنے کو ملی، اللہ کرے زور قلم اور۔

    جواب دیںحذف کریں

بھلا ساری تحریر پڑھ لی تو کمنٹ کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ عامریت ہی تو ہے، آمریت تو نہیں